بات کڑوی ہو تو پھر بات بدل دیتا ہے

بات کڑوی ہو تو پھر بات بدل دیتا ہے
وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کا تقاضا کیا ہے

عین ممکن ہے سمندر کو مسخّر کر لوں
تین راتوں سے کوئی چاند نہیں ابھرا ہے

میں نے تصویر کے چہرے پہ سیاہی مل دی
جانتا تھا کہ وہ رنگوں کی زباں جانتا ہے

اپنے ڈھانچے کو میں خود توڑ کے پھر جوڑتا ہوں
اس طرح وقت بہت اچھا گزر جاتا ہے

ہائے افسوس ترے پاس کوئی خواب نہیں
اور اگر ہو بھی تو ہم اندھوں نے کیا کرنا ہے

کلیم باسط

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی