بہم تھے یار، چلا دورِ جام رات ہوئی

بہم تھے یار، چلا دورِ جام رات ہوئی
وہ پیڑ اور پری سب پرانی بات ہوئی

ہر ایک شخص شبستاں کا راز جان گیا
امانِ شب سے سحر اور نیچ ذات ہوئی

اداس رستے تھے، منزل کا لطف کچھ نہ رہا
نہ دل میں شور اٹھا کچھ، نہ واردات ہوئی

غمِ حیات سے ممکن نہیں فرار کبھی
حیات موت کے پردے میں بھی حیات ہوئی

خبر ملی ہے ستارے زمیں پہ ٹوٹ پڑے
یہ ایک دن میں بھلا کیسی خاص بات ہوئی

کلیم باسط

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی