جو خوشبوؤں سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے

جو خوشبوؤں سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے
اسے زمیں سے وہ بے دست و پا اٹھاتا ہے

جناب چلتے ہیں جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے
اور ان کا بیگ کوئی دوسرا اُٹھاتا ہے

یہ ایک پھول جو کھلتا ہے دو جہانوں میں
وہ اضطراب میں دستِ دعا اٹھاتا ہے

کوئی فرار کا رستہ نہیں ہے دنیا سے
ہر ایک خواب نیا مسئلہ اٹھاتا ہے

مقام پاتے ہیں رستے میں آنے والے بھی
فقیر خود نہیں اٹھتے، خدا اُٹھاتا ہے

ندی کا فیض فقط ڈوب کر نہیں ملتا
گزرنے والوں کو بھی آئنہ اٹھاتا ہے

دعا بھی رہتی نہیں ہے شکستہ دامن میں
تُو اس پھٹے ہوئے تھیلے میں کیا اٹھاتا ہے؟

مرے شریک کی ترتیب خوب ہے حارثؔ
مجھے اٹھانے سے پہلے دیا اٹھاتا ہے

حارث بلال

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی