گرے مکاں میں دبی کہکشاں سمیٹتا ہے
وہ اک ہتھیلی میں سارا جہاں سمیٹتا ہے
یہ اختتام سفر ہے کہ اک نیا آغاز
وہ راستے میں کھڑا کارواں سمیٹتا ہے
کسی جگہ کوئی کردار رہنے دیتا نہیں
یہ وقت روز نئی داستاں سمیٹتا ہے
وہ طے تو کرتا ہے دو چار منزلیں مرے ساتھ
ٹھہر ٹھہر کے مگر جسم و جاں سمیٹتا ہے
گریز پائی کا مجھ سے گلہ نہ کر مرے دوست!
زمیں سمٹتی نہیں، آسماں سمیٹتا ہے
کوئی بگولا سا اٹھتا ہے میری لہروں سے
وہ درمیان کہیں کشتیاں سمیٹتا ہے
سحر میں ابر کی صورت برسنے لگتا ہے
تمام رات جو میرا دھواں سمیٹتا ہے
بکھرنے ہی میں زمانوں کا حسن ہے پنہاں
تو اس خرابے کو حارثؔ کہاں سمیٹتا ہے
حارث بلال