جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی

جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی
ہم بھی کیسے ناداں تھے کس خوشی کی خواہش کی
ہر طرف سکوں سا ہے دل ہے بے سکوں لیکن
ہم نے کب بھلا ایسی بے کلی کی خواہش کی
بد گمانیاں جس کے دل پہ چھائی ہیں ہر دم
ہم نے کیوں بھلا اُس سے دوستی کی خواہش کی
تم نے کیوں جدائی کو لکھ دیا مقدّر میں
ہم نے کب تمہارے بن زندگی کی خواہش کی
کیسے تجھ کو سمجھاؤں دل نے کیوں مرے ناہید
ڈوبتے ستارے سے روشنی کی خواہش کی

ناہید ورک

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں