جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں

جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں

بات کرنے کا ہنر تھا مجھ میں

صبح ہوتے ہی سبھی نے دیکھا

کوئی تا حد نظر تھا مجھ میں

ماں بتاتی ہے کہ بچپن کے سمے

کسی آسیب کا ڈر تھا مجھ میں

جو بھی آیا کبھی واپس نہ گیا

ایسی چاہت کا بھنور تھا مجھ میں

میں تھا صدیوں کے سفر میں احمدؔ

اور صدیوں کا سفر تھا مجھ میں

احمد خیال

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی