فنا کے دشت میں کب کا اتر گیا تھا میں

فنا کے دشت میں کب کا اتر گیا تھا میں

تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو مر گیا تھا میں

کسی کے دست ہنر نے مجھے سمیٹ لیا

وگرنہ پات کی صورت بکھر گیا تھا میں

وہ خوش جمال چمن سے گزر کے آیا تو

مہک اٹھے تھے گلاب اور نکھر گیا تھا میں

کوئی تو دشت سمندر میں ڈھل گیا آخر

کسی کے ہجر میں رو رو کے بھر گیا تھا میں

احمد خیال

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی