جیسے یہ درد سے بنی ہوئی تھی

جیسے یہ درد سے بنی ہوئی تھی
شام اس طرح کاسنی ہوئی تھی
رات کی اپنی روشنی تھی بہت
دھوپ کے جیسی چاندنی ہوئی تھی
کوئی ذی روح دور دور نہ تھا
اور خموشی بہت گھنی ہوئی تھی
کون تھا بن میں بھیگنے والا
چادر ابر کیوں تنی ہوئی تھی
گونجتی تھی ہر ایک سانس کے ساتھ
اک تمنا جو راگنی ہوئی تھی
ایک مدت کے انتظار کے بعد
اس دریچے میں روشنی ہوئی تھی
آئینہ کیوں سیاہ لگتا تھا؟
کیا اندھیرے سے میں بنی ہوئی تھی

ثمینہ راجہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے