جینا مرنا تمھیں سے سیکھا ہے

جینا مرنا تمھیں سے سیکھا ہے
مان لو پیار میرا سچا ہے

اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا
آج منظر جو میں نے دیکھا ہے

دشمنِ جاں ہوئے ہیں وہ اپنے
جن سے برسوں پرانا ناطہ ہے

خار تو خار ہیں مگر تم نے
اپنی باتوں سے دل کو نوچا ہے

زندگی سے ہے پیار ہم کو بھی
آپ کا یہ خیال اچھا ہے

سامنے آو بات کرتے ہیں
پیٹھ پیچھے سے وار دھوکہ ہے

شازیہ کیا بتائیں دنیا نے
ہر قدم پر ہمیں بھی پرکھا ہے

شازیہ طارق

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا