اظہار خود بخود کبھی انکار خود بخود

اظہار خود بخود کبھی انکار خود بخود
ہوتا نہیں ہے دوست کو ئی کار خود بخود

کو ئ سبب تو ہو گا دلِ داغ دار کا
کب زخم کو ئی ہوتا ہے بیدار خود بخود

ہر گز کسی کی پیٹھ پہ خنجر نہ ماریے
آتا ہے لوٹ کے سدا ہر وار خود بخود

گر ہو سکے تو اپنا گریباں بھی دیکھیے
اگتے نہیں ہیں دل میں کبھی خار خود بخود

اپنوں نے کچھ کہا نہ کہا غیروں نے کبھی
ہم ہو گئے ہیں دنیا سے بیزار خود بخود

جب حال چال دنیا سے ہم نے چھپا لیا
تو دور ہو گِئے سبھی آزار خود بخود

سچی لگن ہو شازیہ تو رب کے حکم سے
ملتے ہیں منزلوں کے بھی آثار خود بخود

شازیہ طارق

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا