کبھی خوشیاں کبھی غم

کبھی خوشیاں کبھی غم اور کبھی صدمے اٹھاتے ہیں
فقط تیرے لیے اے زندگی ہم مسکراتے ہیں

سہے جس کے لیے دنیا کے دکھ اب وہ بھی ہنس ہنس کر
کہانی میرے زخموں کی زمانے کو سناتے ہیں

بدل کر نظریں جانے والے کب یہ سوچتے ہیں کہہ
کہ انکے اپنے انکی یاد میں آنسو بہاتے ہیں

اگر چہ دل ہمارا بھی دکھا ہے پر ترے دنیا
دکھوں کو دیکھ کر ہم اپنے دکھ کو بھول جاتے ہیں

کلی دل کی کھلے تو ہم کو اکثر بھول جاتے ہو
مگر ہم دیکھ کے تم کو زمانہ بھول جاتے ہیں

نہ دل اپنا نہ وہ اپنے نہ یہ دنیا بنی اپنی
مگر پھر بھی مری اس سادگی سے فیض پاتے ہیں

بڑی مشکل سے ہم نے شازیہ اس دل کو سمجھایا
یہ دنیا ہے وفا کےرنگ اس پہ آتے جاتے ہیں

شازیہ طارق

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے