جائزہ

بات دل جلانےکی
بے وجہ ستانےکی
زخمِ دل لگانے کی
اور مجھے گرانےکی
اپنا یا پرایا ہو
دوست ہو یا دشمن ہو
سالِ نو ہو یا کوئی
زندگی کا گزرا پل

کچھ منافقوں کےساتھ
حاسدوں کے گھیرے میں
طنزیہ نگاہوں میں
مارِ آستیں ہیں جو
غرض کے پجاری ہیں

وقت اب بھی گزرے گا
میرا ایک جیسا ہی

ھاں مگر……..
مقدر نے
مجھ کو چند ایسے لوگ
بخش کر
جو ہیں دل کے سچے
اور پیار کرنے والے ہیں
اب مجھے یقیں ہے
ان کے ساتھ میرا
وقت خوب گزرے گا
اور یہ برس آخر
مجھ پہ مہرباں ہو گا

 

تسلیم اکرام

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

1 تبصرہ

طارق اقبال حاوی اپریل 11, 2020 - 12:21 شام
بہت خوووووب
Add Comment