جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیں

جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیں
وہاں پہ بارشیں ہوں تو دیے نکلتے ہیں

بتا وہ لوگ بھلا کیسے توڑ دیں گے تجھے
جو تجھ کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں

ذرا سے وقت میں رشتے نہیں بنا کرتے
یہ کاروبار بڑی محنتوں سے چلتے ہیں

کسی بھی رت کو نہیں دیکھا ہم نے جی بھر کے
تمہارے شہر کے موسم بہت بدلتے ہیں

ذرا سی چاپ سے یکسوئی ٹوٹ جاتی ہے
گلی سے لوگ گزرتے ہیں ہم تڑپتے ہیں

دانش نقوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے