جب تک مرے الفاظ کی ترسیل نہ ہوگی

جب تک مرے الفاظ کی ترسیل نہ ہوگی
خالی مرے جذبات کی زنبیل نہ ہوگی

گر تم جو نہیں ساتھ تو ہربات ادھوری
بن تیرے مری ذات کی تکمیل نہ ہوگی

مت ڈھونڈنا وہ لفظ جنہیں لکھ نہ سکی میں
خط میں مرے حالات کی تفصیل نہ ہوگی

اوروں کے لئے کرتا ہے جو مشکلیں پیدا
اُس کے لئے روشن کبھی قندیل نہ ہوگی

مانا کہ تجھے وقت نے مغرور کِیا ہے
لیکن مری آہوں کی بھی تمثیل نہ ہوگی

میں جو بھی کہونگی کبھی پیچھے۔نہ ہٹونگی
یہ بات مری جھوٹ میں تبدیل نہ ہوگی

جو بات بھی کہنی ہو کہیں سوچ سمجھ کر
بعد اسکے کسی بات کی تاویل نہ ہوگی

توظلم بھی کرتا ہے تو نادم نہیں ہوتا
مقصدکی ترےاس سے بھی تحصیل نہ ہوگی

ہوجائےاگرعشق قدم بوس بھی عشبہ
مجھ کو ہے یقیں عشق کی تذلیل نہ ہوگی

عشبہ تعبیر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے