جب بھی جلے گی شمع

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گا
دیوانہ لے کے جان کا نذرانہ آئے گا

تجھ کو بھلا کے لوں گا میں خود سے بھی انتقام
جب میرے ہاتھ میں کوئی پیمانہ آئے گا

آسان کس قدر ہے سمجھ لو مرا پتہ
بستی کے بعد پہلا جو ویرانہ آئے گا

اس کی گلی میں سر کی بھی لازم ہے احتیاط
پتھر اٹھا کے ہاتھ میں دیوانہ آئے گا

ناصرؔ جو پتھروں سے نوازا گیا ہوں میں
مرنے کے بعد پھولوں کا نذرانہ آئے گا

حکیم ناصر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا