جا ترس آ ہی گیا حشر میں لاچار مجھے

جا ترس آ ہی گیا حشر میں لاچار مجھے

تو بھی کیا یاد کرے گا بتِ عیار مجھے

دھوپ جب سر سے زرتی ہے بیابانوں کی

یاد آتا ہے ترا سایۂ دیوار مجھے

شکوۂ جور غلط ہے تو چلو یوں ہی سہی

حشر کا دن ہے بڑھانی نہیں تکرار مجھے

دردِ دل رسمِ محبت ہے تجھے کیا معلوم

چارہ گر تو نے سمجھ رکھا ہے بیمار مجھے

ہچکی آ آ کے کسی وقت نکل جائے گا دم

آپ کیو ں یاد کیا کرتے ہیں ہر بار مجھے

اے قمر رات کی رونق بھی گئی ساتھ ان کے

تارے ہونے لگے معلوم گراں بار مجھے

قمر جلال آبادی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے