جا تجھے دل ربا معاف کیا

جا تجھے دل ربا معاف کیا
زندگی با خدا معاف کیا

تیرے جانے کا غم نہیں مجھ کو
یہ مقدر ہے, جا معاف کیا

ہم اچانک ہی اجنبی ہو گئے
کیوں یہ بدلی ہوا، معاف کیا

کتنی نازک سی شے بھروسا ہے
توڑ تم نے دیا، معاف کیا

آخری بار اُسے ملوں اور کہوں
جا تجھے بے وفا معاف کیا

لمس شامل لہو میں جب سے ہے
دل ہے سیماب سا, معاف کیا

خود سے بھی پوچھنا تھا مجھ کو حسیب
تو نے یہ کیا کِیا، معاف کیا

حسیب بشر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی