بہار آمیز یہ موجِ صبا کچھ اور کہتی ہے

بہار آمیز یہ موجِ صبا کچھ اور کہتی ہے
مگر ہر سُو اداسی کی فضا کچھ اور کہتی ہے
خزاں کے موسموں کا زرد پتّہ ہو گیا ہے دل
تو کیوں مجھ سے ہواؤں کی نوا کچھ اور کہتی ہے؟
دھنک کے رنگ بکھرے ہیں مرے چاروں طرف تو کیوں؟
مرے سوکھے گلابوں کی صدا کچھ اور کہتی ہے
مرے سر پر چمکتا آسماں ہے تیری قُربت کا
ستاروں سے مگر خالی ردا کچھ اور کہتی ہے
یقیں سے بے یقینی کا سفر بھی طے کیا میں نے
مگر پھر بھی ترے دل کی رضا کچھ اور کہتی ہے
مرا بے ساختہ پن سب ادھورا رہ گیا ناہید
مری خاموشیوں کی اب صدا کچھ اور کہتی ہے

ناہید ورک

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی