بے سبب ،بے حساب عشقا وے

بے سبب ،بے حساب عشقا وے
کون جھیلے عذاب عشقا وے

بےلحاظا،خدا تجھے پوچھے
تیرا خانہ خراب عشقا وے

میرے چبھتے ہوئے سوالوں کا
کب ملے گا جواب عشقا وے

تو صحیفہ قدیم شبدوں کا
میں ہوں سچی کتاب عشقا وے

بول کب تک فرح کو رکھے گا
اپنے زیر-عتاب ،عشقا وے

سیدہ فرح شاہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے