عشق کی مسافتیں

عشق کی مسافتیں

گھڑی بھر کی نگاہ تھی
بس اُسی اِک نگاہ میں
ملیں عشق کی عنایتیں
رہیں کم ہی کچھ سخاوتیں
دبے پاؤں چلتے ہوئے
لمحہ لمحہ طے کریں
طویل عشق کی مسافتیں
عشقِ یارکی لطافتیں
گماں کی منزلوں سے
عشق نے محسوس کیں
وہی ماتمی حسرتیں
وہی شکستہ رقابتیں
بس عشق کو ہی
کبھی نہ مل سکیں
دیدارِ یار کی پر لطف ساعتیں….
قربِ یار کی اجازتیں
عمر بھر بھٹکتی رہیں
خاموش پنپتی رہیں
یارِ من سے شکایتیں
وضاحتیں ہی وضاحتیں

لبنیٰ مقبول غنیمؔ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے