اس طرح خواب سفینے کا مزا لیتا ہوں

اس طرح خواب سفینے کا مزا لیتا ہوں
بند آنکھوں سے مدینے کا مزا لیتا ہوں

مجھ سا بے رنگ بھی رنگوں میں نہا جاتا ہے
ان پہ مرتا ہوں تو جینے کا مزا لیتا ہوں

جام بن کر مرے ہونٹوں سے وہ آ لگتا ہے
قطرہ قطرہ اسے پینے کا مزا لیتا ہوں

درد کی چاہ میں پہلے تو کریدوں شب بھر
پھر اسی زخم کو سینے کا مزا لیتا ہوں

کھوجتا رہتا ہوں لہجے کی تہوں کو خالدؔ
اصل چہرے کے دفینے کا مزا لیتا ہوں

خالد ندیم شانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے