اس عشق میں گواہ نہ کوئی دلیل ہے

اس عشق میں گواہ نہ کوئی دلیل ہے
منصف بھی دل ہے اور یہ دل ہی وکیل ہے

وہ آج پھر مکر گیا وعدے سے وصل کے
میری گزارشوں پہ وہی قال و قیل ہے

ظالم ہو بادشاہ تو رب نے بتا دیا
فرعون وقت کے لیے دریاء نیل ہے

ہو جائے گا طویل تری بے وفائی سے
یہ فاصلہ جو عشق کا دو چار میل ہے

مہکی ہوئی ہے ان سے مرے دل کی کائنات
یادوں کے کچھ کنول ہیں تصور کی جھیل ہے

برباد مت کرو اسے نفرت کی آگ سے
دنیا محبتوں کی حسین و جمیل. ہے

انصاف کس سے مانگئے ظالم کے شہر میں
یاں تو نہ عدلیہ ہے نہ کوئی عدیل ہے

جو چاہے آئے شہر محبت میں اے حسن
در پے نہ کوئی اور نہ کوئی فصیل ہے

حسن فتحپوری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان