التجا بے اثر نہ جائے کہیں

التجا بے اثر نہ جائے کہیں
وہ مجھے چھوڑ کر نہ جائے کہیں

کوششیں لاکھ کی بٹانے کی
دھیان تیرا مگر نہ جائے کہیں

اجنبی راہ کی مسافر ہوں
رائیگاں یہ سفر نہ جائے کہیں

یک بیک پاس سے وہ گزرا ہے
دل کی دھڑکن ٹھہر نہ جائے کہیں

آندھیوں سے اسے بچا رکھو
گھر کا بوڑھا شجر نہ جائے کہیں

بلبلاتا ہے بھوک سے بچہ
ماں کو ڈر ہے کہ مر نہ جائے کہیں

فکر کیجیے فلاحِ عالم کی
یہ جوانی گزر نہ جائے کہیں

حکمرانوں کو بس یہ خدشہ ہے
قوم اپنی سدھر نہ جائے کہیں

تجھ پہ نازاں ہوں میں بہت لیکن
"تُو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں”

روبینہ شاد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی