ایک دن خواب نگر جانا ہے

ایک دن خواب نگر جانا ہے

اور یونہی خاک بسر جانا ہے

عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی

یہ اسی خواب کا ہرجانا ہے

گھر سے کس وقت چلے تھے ہم لوگ

خیر اب کون سا گھر جانا ہے

موت کی پہلی علامت صاحب

یہی احساس کا مر جانا ہے

کسی تقریب جدائی کے بغیر

ٹھیک ہے جاؤ اگر جانا ہے

شور کی دھول میں گم گلیوں سے

دل کو چپ چاپ گزر جانا ہے

ادریس بابر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل