خواب تعبیر میں ڈھلا ہی نہیں

خواب تعبیر میں ڈھلا ہی نہیں
وہ دریچہ ابھی کھُلا ہی نہیں

خاک پر رہ گئے ہیں نقشِ قدم
اور مسافر کا کچھ پتا ہی نہیں

اِس لیے راستے کو تکتا ہوں
اب کوئی اور راستہ ہی نہیں

نیند ایسی کہ آنکھ کھل جائے
خواب ایسا کہ ٹوٹتا ہی نہیں

یا ہَوا تھک چکی ہے اب غائر
یا کسی گھر میں اب دِیا ہی نہیں

کاشف حسین غائر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا