کہیں مل جائے وہ خوشبو تو کہنا

کہیں مل جائے وہ خوشبو تو کہنا
مبارک باد موسم کی طرف سے

چراغِ شام آیا ہے ہمارے
اندھیرا کام آیا ہے ہمارے

وہ کیا آئے یہاں جو خواب میں بھی
برائے نام آیا ہے ہمارے

کوئی کیا کام آتا، کام جیسے
دلِ ناکام آیا ہے ہمارے

نہ کوئی اشک ہی آنکھوں میں ایسا
نہ لب تک جام آیا ہے ہمارے

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا