مداوائے آلام ہو جائے گا

مداوائے آلام ہو جائے گا
تو کیا دل ترا کام ہو جائے گا

اگر میں یونہی خاک اُڑاتا رہا
یہ رستا مرے نام ہو جائے گا

یہی زندگی ہے تو کیا سوچنا!
جو ہونا ہے انجام ہو جائے گا

سلامت رہے تیرا شوقِ سفر
مسافر ترا کام ہو جائے گا

اگر اُٹھ گیا دل تو سنّاہٹا
لباسِ در و بام ہو جائے گا

کسے یہ خبر تھی کہ کاشف حسین
یہ قصّہ ترا عام ہو جائے گا

کاشف حسین غائر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا