گذر چلی ہے شبِ دل فگار آخری بار

حسین ابنِ علی

گذر چلی ہے شبِ دل فگار آخری بار

بچھڑنے والے ہیں، یاروں سے یار آخری بار

دمک رہا ہے سحر کی جبیں پہ بوسۂ شب

تھپک رہی ہے صبا روئے یار آخری بار

ذرا سی دیر کو ہے پتیوں پہ شیشۂ نم

گذر رہی ہے کرن،آر پار آخری بار

یہ بات خیموں کے جلتے دیئے بھی جانتے ہیں

کہ ہم کو بجھنا ہے،ترتیب وار،آخری بار

کسی الاؤ کا شعلہ بھڑک کے بولتا ہے

سفر کٹھِن ہے،مگر ایک بار،آخری بار

سُموں سے اڑتی ہوئی ریگِ دشت ڈھونڈتی ہے

غبار ہوتے ہوئے شہسوار،آخری بار

کسی قریب کے ٹیلے پہ راہ دیکھتی ہے

مدینہ جاتی ہوئی راہ گذار،آخری بار

سعود عثمانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے