ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ

ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ
بت کدہ کے بتو خدا حافظ

کر چکے تم نصیحتیں ہم کو
جاؤ بس ناصحو خدا حافظ

آج کچھ اور طرح پر ان کی
سنتے ہیں گفتگو خدا حافظ

بارگاہی ہے ہمیشہ زخم پہ زخم
دل کے چارہ گرو خدا حافظ

آج ہے کچھ زیادہ بے تابی
دلِ بے تاب کو خدا حافظ

کیوں حفاظت ہم اور کی ڈھونڈیں
ہر نفس جب کہ ہے خدا حافظ

چاہے رخصت ہو راہِ عشق میں عقل
اے ظفر جانے دو خدا حافظ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے