حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار

حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار

ساری دنیا کہے بلبل نہ کہے ہائے بہار

صبح گلگشت کو جاتے ہو کہ شرمائے بہار

کیا یہ مطلب ہے گلستاں سے نکل جائے بہار

منہ سے کچھ بھی دمِ رخصت نہ کہا بلبل نے

حرف صیاد نے اتنا تو سنا ہائے بہار

یہ بھی کچھ بات ہوئی گل ہنسے تم روٹھ گئے

اس پہ یہ ضد کہ ابھی خاک میں مل جائے بہار

تیرے قربان قمرؔ منہ سرِ گلزار نہ کھول

صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

قمر جلال آبادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی