وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل

وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل

دو گھڑی کے لیے اللہ ہٹا لے بادل

آج یوں جھوم کے کچھ آ گئے کالے بادل

سارے میخانوں کے کھلوا گئے تالے بادل

آسماں صاف شبِ وصل سحر تک نہ ہوا

اس نے ہر چند دعا مانگ کے ٹالے بادل

بال کھولے ہوئے یوں سیر سرِ بام نہ کر

تیری زلفوں کی سیاہی نہ اڑا لے بادل

وقتِ رخصت عجب انداز سے ان کا کہنا

پھر دعا کل کی طرح مانگ بلا لے بادل

میں تو برسات میں بھی چاندنی صدقے کر دوں

اے قمرؔ کیا کروں جب مجھ کو چھپا لے بادل

قمر جلال آبادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی