باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

پھول کی طرح ہنسے رو دیئے شبنم کی طرح

شکوہ کرتے ہو خوشی تم سے منائی نہ گئی

ہم سے غم بھی تو منایا نہ گیا غم کی طرح

روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہے

اب نکلواؤ تو پھر حضرتِ آدم کی طرح

لاکھ ہم رند سہی حضرتِ واعظ لیکن

آج تک ہم نے نہ پی قبلۂ عالم کی طرح

تیرے اندازۂ جرأت کے نثار اے قاتل

خون زخموں پہ نظر آتا ہے مرہم کی طرح

خوف دل سے نہ گیا صبح کے ہونے کا قمرؔ

وصل کی رات گزاری ہے شب غم کی طرح

قمر جلال آبادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی