ہوا ہوں نیند سے بیدار حیرانی اٹھا کر میں

ہوا ہوں نیند سے بیدار حیرانی اٹھا کر میں
رواں تھاخواب میں شب تاجِ سلطانی اٹھاکر میں

تلاشِ اسم ہے مجھ کو تلاشِ رزق سے بڑھ کر
نکل آیا ہوں گھر سے جو پریشانی اٹھا کر میں

قیامت ایسی دل پر رونقِ دنیا نے ڈھائی ہے
پلٹ کر آگیا ہوں گھر میں ویرانی اٹھا کر میں

اب اسکی آنکھ سے آگےکسی منظر میں رہتا ہوں
ورائے دسترس خوابوں کی عریانی اٹھاکر میں

عجب اک بے ثباتی سی طبیعت میں کھٹکتی ہے
پریشاں ہوں تری دنیا کی مہمانی اٹھا کر میں

سکوتِ دشت میں برپا کرونگا کوئی ہنگامہ
سمندر سے نکل آیا ہوں طغیانی اٹھاکر میں

اسےچھوڑا ہےتودنیا بھی چھوٹی جائے ہے اسعد
عجب مشکل پسندی میں ہوں آسانی اٹھا کر میں

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے