ہجر کی رت میں گام گام گرے

ہجر کی رت میں گام گام گرے
آنکھ سے اشک بے لگام گرے

جب نظر سے وہ ذی مقام گرے
سب عقیدت کے بت دھڑام گرے

پھر کہیں جا کے اسکو چین پڑا
پاؤں میں شہہ کے جب غلام گرے

زرد موسم نے پہلا وار کیا
پھول جو سرخ تھے ، تمام گرے

میرے لشکر ! مدد کو تب آنا
جب مرے ہاتھ سے نیام گرے

اُن دنوں مل گیا چراغِ وفا
جن دنوں روشنی کے دام گرے

کومل جوئیہ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا