خواب دیکھا تھا کسی مغرور کا

خواب دیکھا تھا کسی مغرور کا
اس لیے چشمہ لگا ہے دور کا

توڑ آیا ہے حصارِ وصلِ یار
دل نہیں قائل کسی دستور کا

اُن ہَری آنکھوں کے چُنگل سے نکل
حل یہی ہے عشق کے ناسور کا

راس آنے لگ گئی گریہ گری
آگیا موسم سخن پہ بُور کا

اسلیے اتنی اذیت ہورہی
مان ٹوٹا ہے دلِ مخمور کا

خوش بہت ہوگا امیرِ شہر آج
پھینک کر کاسہ کسی مجبور کا

جتنا محنت کا صلہ دیتے ہیں آپ
گھر نہیں چل پائے گا مزدور کا

کومل جوئیہ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا