یہ رزم گاہ میں ہے ناگزیر ، کھینچے گا

Oplus_131072

یہ رزم گاہ میں ہے ناگزیر ، کھینچے گا
کمان جو بھی خریدے گا ، تیر کھینچے گا

صدا پہ کان دھرو گے تو بڑھ نہ پاؤ گے
یہاں تو دامنِ دل ہر فقیر کھینچے گا

سو بچ بچا کے نکلنا یہاں زمانے سے
یہ سب کو اپنی طرف بے ضمیر کھینچے گا

ہمیں برائی کے رستے پہ کھینچنے والے
ہمیں تو مژدہ ء خیرِ کثیر کھینچے گا

اسے ہجوم کو قابو میں رکھنا آتا ہے
وہ اپنی آنکھوں سے جمِّ غفیر کھینچے گا

تعلقات پہ رکھے گا ہجر کا پتھر
اور اُس کے بعد وہ اُس پر لکیر کھینچے گا

کومل جوئیہ 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی