ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے

ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے
برستے بادلوں کے کارواں نہیں گزرے
وہ بد گمانی کی پرچھائیوں میں رہتا ہے
اُدھر یقیں کے کبھی سائباں نہیں گزرے
میں جن کی آنکھوں میں سب اپنے خواب رکھ دیتی
مری نگاہ سے وہ مہرباں نہیں گزرے
محبتوں کے سفر میں یہ کون کہتا ہے
کہ دشتِ چشم سے آبِ ر واں نہیں گزرے؟
جہاں بھی چاہے اُڑا کر مجھے وہ لے جائے
صدا کی لہر سے ایسے گماں نہیں گزرے!
مئے حیات کی تلخی سبھی کا حصّہ تھی
جو میرے جیسے تھے تشنہ لباں ، نہیں گزرے
تری صدائے مسلسل کی گونج تھی، پھر بھی
’’ترے خیال پہ کیا کیا گماں نہیں گزرے‘‘

ناہید ورک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے