ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے

ساحر لدھیانوی

ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے
جو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے

جگمگاتے ہیں افق پر یہ ستارے لیکن
راستہ منزل ہستی کا مہیب آج بھی ہے

سر مقتل جنہیں جانا تھا وہ جا بھی پہنچے
سر منبر کوئی محتاط خطیب آج بھی ہے

اہل دانش نے جسے امرِ مسلم مانا
اہلِ دل کے لیے وہ بات عجیب آج بھی ہے

یہ تری یاد ہے یا میری اذیت کوشی
ایک نشتر سا رگِ جاں کے قریب آج بھی ہے

کون جانے یہ تیرا شاعرِ آشفتہ مزاج
کتنے مغرور خداؤں کا رقیب آج بھی ہے

ساحر لدھیانوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے