ہمارے بیچ رہا احترام کا رشتہ

ہمارے بیچ رہا احترام کا رشتہ
کبھی کبھار پرے سے سلام کا رشتہ

میں ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھ آیا ہوں
جڑا ہے میری اداسی سے شام کا رشتہ

تمہارا باپ ہوں بیٹی، سو مان لو میری
نکل نہ جائے کہیں پھر سے کام کا رشتہ

نہ رابطے میں رہے وہ، نہ سامنے آئے
محبتوں میں رہا ان سے نام کا رشتہ

ترے لبوں کو مظفرؔ نے چوم کر جانا
حرام ٹھہرا ہے کیوں ہم سے جام کا رشتہ

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

آمد

چلو چلیں