ہمارے آس پاس دیکھ

تری کمی ہے جابجا، ہمارے آس پاس دیکھ
ہمیں نہ دیکھ بے وفا، ہمارے آس پاس دیکھ

تری خدائی سے خدا،ہمیں نہیں کوئی گلہ
مگر ہے تجھ سے التجا، ہمارے آس پاس دیکھ

تلاش کر رہے ہیں ہم، زمین و آسمان میں
ہیں کتنے لوگ لاپتہ، ہمارے آس پاس دیکھ

منافقوں کے درمیاں، ہوا ہے کتنا بد گماں
کسی فریب میں نہ آ، ہمارے آس پاس دیکھ

تمہیں کوئی بھی مسئلہ ،نہیں بتا سکے تو کیا؟
نہیں ہے کوئی مسئلہ، ہمارے آس پاس دیکھ

ہمارے ہاں ثواب کا، نکل پڑا یہ راستہ
جو نارسا، وہ پارسا، ہمارے آس پاس دیکھ

مظفرؔ ان کی یاد میں، چلو تری غزل سنیں
غزل ہمیں وہی سنا، ہمارے آس پاس دیکھ

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی