تو نے مجھ کو نہ غزل گوئی

تو نے مجھ کو نہ غزل گوئی عطا کی ہوتی
میں بھی تنہائی میں دیوار سے باتیں کرتا

تجھ پہ ہی راز ِتمنا کے سبھی در کھولے
کیا تجھے چھوڑ کے اغیار سے باتیں کرتا

عين ممکن تھا کہ اندر کی گھٹن گھٹ جاتی
کوئی ہوتا ترے بیمار سے باتیں کرتا

رنگ بھرنا تھا کہانی میں حقیقت کا تجھے
اپنے لکھے ہوئے کردار سے باتیں کرتا

میری غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی ہے کہ میں
اپنے ہی ملک کے غدار سے باتیں کرتا

عدنان اثر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے