غمِ دوراں سےفرصت کا کوئی لمحہ چرالینا

غمِ دوراں سےفرصت کا کوئی لمحہ چرالینا
حسیں یادوں کو سینے سے لگا کر مسکرا لینا

جہاں والوں کی ساری تہمتیں میں سر پہ لے لوں گی
کوئی الزام تم پر آئے تو دامن بچا لینا

بڑوں نے میری قسمت میں لکھا ہے اجنبی کوئی
مجھے تم بھول کر دل کی نئی دنیا بسا لینا

تمھارے نام کا کاجل میں آنکھوں میں لگا لوں گی
مجھے ماتھے پہ تم محراب کی صورت سجا لینا

ملن کا ریشمی احساس روحوں میں سمائے گا
مری تصویر جب دیکھو تو سینے سے لگا لینا

شبِ ہجراں کی وحشت سے کبھی تھک جاؤ تو مجھ کو
تصور کے کسی تنہا جزیرے پر بلا لینا

زمانہ بھانپ لیتا ہے سبھی مفہوم نظروں کے
ہمارا سامنا ہو جائےتو نظریں چرا لینا

خود اپنے آپ سے روٹھے ہوئے اک عمر گزری ہے
اگر اے یار تم سے روٹھ جاؤں تو منا لینا

منزہ سید

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے