گردشِ حال پر کتاب لکھوں

گردشِ حال پر کتاب لکھوں
مجھ پہ گزرے ہیں جو عذاب لکھوں

کیسے کاٹے ہیں روز و شب میں نے
ہجر میں دل کا اضطراب لکھوں

کچھ کہے بن سمجھ گئی تھی میں
بولتی آنکھ کے خطاب لکھوں

میری قسمت نے دی ہے مات مجھے
پھول کانٹے بنے جناب لکھوں

منزلوں سے سدا جو دور رکھے
راستے میں وہی سراب لکھوں

جس نے انتھک یہاں پہ کی محنت
اُس کو ہر لمحہ کامیاب لکھوں

چن نہیں پائی میں جنہیں بشریٰ
ریزہ ریزہ ہوئے جو خواب لکھوں

بشریٰ سعید عاطف

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی