عشق ترا جاگیر نہ ہوتا

عشق ترا جاگیر نہ ہوتا
پاؤں کی زنجیر نہ ہوتا

قسمت اُس کو یوں نہ ملاتی
وہ ظالم تقدیر نہ ہوتا

خوشیاں ہوتی قسمت میں گر
رنج و الم تصویر نہ ہوتا

میرے غم سے رہتے انجان
اشک اگر تفسیر نہ ہوتا

کوشش گر ہوتی نہ مسلسل
خواب کوئی تعبیر نہ ہوتا

یوجا رہتی میری ادھوری
مندر یہ تعمیر نہ ہوتا

لفظ ترے مرہم بن جاتے
لہجہ گر شمشیر نہ ہوتا

بے اماں ہوتی بشریٰ گر
الفت کا شہتیر نہ ہوتا

بشریٰ سعید عاطف

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا