گرداب وار یار ترے صدقے جایئے

گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے

سر مار مار بیٹھے تلف ہوجے کب تلک
ٹک اٹھ کے اب نصیبوں کو بھی آزمایئے

سو شکل سے ہم آئے گئے تیری بزم میں
طنزاً کہا نہ تو نے کبھو یوں کہ آیئے

آئے ہیں تنگ جان سے قیدحیات میں
اس بند سے ہمارے تئیں اب چھڑایئے

کہنے لگا کہ ٹیڑھے بہت ہو رہے ہو تم
دو چار سیدھی سیدھی تمھیں بھی سنایئے

ہے عزم جزم ترک و تجرد کا گر بنے
کیا اس جہان سفلہ سے دل کو لگایئے

تاثیر ہے دعا کو فقیروں کی میرجی
ٹک آپ بھی ہمارے لیے ہاتھ اٹھایئے

میر تقی میر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا