فنکار تو فن پارہ و شہکار میں گم ہے

فنکار تو فن پارہ و شہکار میں گم ہے
دنیا تو یونہی جادہِ بیکار میں گم ہے

معراجِ مساکین ہے نعلین کا بوسہ
عرفانِ الہ مطلعِ انوار میں گم ہے

ہر نقش ہے لافانی و لاثانی و لاریب
ہر عکس حقیقی رخِ ضَوبار میں گم ہے

میں گلشنِ توحید کی ہوں بلبلِ نایاب
اک نغمہِ وحدت مری مِنقار میں گم ہے

آماج گہِ نور ہے سیمائے گہر بار
توحید کہ سرپیچِ علمدار میں گم ہے

جس رمز نہانی کو ترستی ہے تری جاں
وہ عشق و جنوں سرور و سردار میں گم ہے

اک جہدِ مسلسل ہے مرا جذب کنندہ
جو عشقِ شہِ ناز کے پِندار میں گم ہے

ہوتی ہے زمیں مضطرِ ارواح شکم سیر
وہ گنجِ گہر قلزمِ اشعار میں گم ہے

ملتا ہے مئے عشقِ محمد کا جہاں جام
وہ عرقِ ہنر فقر کے مِعصار میں گم ہے

لاہوت و سماوات کے جلوؤں کی حقیقت
محبوبِ خداوند کے اَمصار میں گم ہے

افلاک پہ کیا ڈھونڈتا پھرتا ہے زمانہ
جامؔی تو کہیں گردِ رہِ یار میں گم ہے

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے