فکر کو باندی بنانے سے رہا

فکر کو باندی بنانے سے رہا
شاہ کی جوتی اٹھانے سے رہا

کاسہ لیسوں سے مری بنتی نہیں
اس طرح عزت کمانے سے رہا

آنے والوں کی کرے گا رہبری
سانحے کو میں چھپانے سے رہا

اپنے قد پر ہے یقیں اس واسطے
تخت سے تجھ کو گرانے سے رہا

مجھ تلک محدود ہیں میرے الم
ہر کسی کو اب سنانے سے رہا

کب تلک تجھ کو دھکیلوں اے بدن
اور دھکا اب لگانے سے رہا

دل کی مسند سے گرا سوگر گیا
میں اسے جھک کر اٹھانے سے رہا

خوں کے قطروں سے لکھے ماجد ستم
اب لگی لپٹی سنانے سے رہا

 

ماجدجہانگیرمرزا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی