زندگی میں تلخیاں جھٹلا کے چل

زندگی میں تلخیاں جھٹلا کے چل
گر رہا ہے پھر بھی تو اترا کے چل

مت دبا سینے کے اندر وحشتیں
دکھ کو سُر کی شکل دے اور گا کے چل

ایک دن تو مٹ ہی جائیں گے الم
دل کو یہ باور کرا بہلا کے چل

سیدھا چلنے کے بہت نقصان ہیں
اس لیے سیدھا نہ چل بل کھا کے چل

مت خس و خاشاک بن کر تو بکھر
جبر سے آنکھیں ملا ٹکرا کے چل

تلخ ماضی جھاڑ اپنے جسم سے
سب غموں کو جمع کر،دفنا کے چل

خواب کی تعبیر ماجد چاہیے
آگ سینے میں لگا بھڑکا کے چل

 

ماجد جہانگیر مرزا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی