فقط اک پیر دروازے سے باہر

فقط اک پیر دروازے سے باہر
مگر نقصان اندازے سے باہر

خموشی مجھ سے چھپتی پھر رہی ہے
نکالو اس کو آوازے سے باہر

کوئی گیسو گھٹاؤں سے گھنیرا
لب و عارض کوئی غازے سے باہر ؟

بشر نے کس قدر افتاد جھیلی
نکل کر اپنے شیرازے سے باہر

فرح گوندل

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں