اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ
میری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔ

رہتا تھا کج کلاہ امیروں کے درمیاں
یکسر لئے ہوئے مرا کردار مصحفیؔ

دیتے ہیں داد غیر کو کب اہل لکھنؤ
کب داد کا تھا ان سے طلب گار مصحفیؔ

نا قدریٔ جہاں سے کئی بار آ کے تنگ
اک عمر شعر سے رہا بیزار مصحفیؔ

دربار میں تھا بار کہاں اس غریب کو
برسوں مثال میرؔ پھرا خوار مصحفیؔ

میں نے بھی اس گلی میں گزاری ہے رو کے عمر
ملتا ہے اس گلی میں کسے پیار مصحفیؔ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا